| http://express.com.pk/images/NP_ISB/20131111/Sub_Images/1102012774-1.gif |
Monday, November 11, 2013
Prime Minister Youth Program | A wonderful response from the YOUTH
Sunday, November 10, 2013
Editorial of Waqt News
Sunday, November 10, 2013
Daily Waqt, Editorial, Karachi Operation 2013, Mian Nawaz Sharif
No comments
Saturday, November 9, 2013
وزیراعظم کے دورۂ امریکا کے مستقبل میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے
Saturday, November 09, 2013
Express, Mian Nawaz Sharif, news reports, Obama, Shamshad, US tour 2013
No comments
وزیراعظم کے دورۂ امریکا کے مستقبل میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے
وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ دنوں امریکا کا سرکاری دورہ کیا۔ عام انتخابات کے نتیجے میں وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد نوازشریف کا یہ پہلا دورہ ء امریکا تھا.
جس میں انہوں نے صدر امریکا کے علاوہ دیگر امریکی حکام کے ساتھ ساتھ امریکا میں مقیم پاکستانی تارکین وطن سے بھی ملاقاتیں کیں۔ پاکستان کی اندرونی و بیرونی صورت حال اور جغرافیائی اعتبار سے خطے کا ایک اہم ملک ہونے کے ناتے یہ دورہ خصوصی اہمیت کا حامل قرار پایا۔ پاکستان ہی میں نہیں پاکستان سے باہر بھی اس دورے سے پہلے ہی مختلف نوع کے تبصرے اور قیاس آرائیوں کاسلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ دورہ مکمل ہونے کے بعد بھی اس پر گفتگو اور بحث کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر اعظم کے اس دورے کے مقاصد کیا تھے اور ان کے حصول میں کہاں تک کامیابی حاصل ہوئی اوردہشت گردی ، ڈرون حملوںاور کشمیر ایسے اہم اور بنیادی ایشوز کے علاوہ معاشی اور اقتصادی صورت حال کے حوالے سے اس دورے سے کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟ یہ اور اس قسم کے دیگر سوالات کے جوابات جاننے کے لیے ہم نے ’’وزیر اعظم کا دورہء امریکا، اثرات ونتائج ‘‘ کے موضوع پر ایکسپریس فورم کااہتمام کیا اور اس میں ملک کے معروف دانش وروں اور ماہرین کو اظہارِخیال کی دعوت دی ۔
ایکسپریس فورم کے مقررین میں امورخارجہ کے ماہر سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان، ماہر قانون ،استاد اور دانش ور پروفیسر ہمایوں احسان،دفاعی تجزیہ کار ایڈمرل (ریٹائرڈ ) جاوید اقبال اور بریگیڈیئر (ریٹائرڈ ) سید غضنفر علی شاہ شامل تھے جنہوں نے موضوع کے حوالے سے پاک امریکا تعلقات کے پس منظر اور پیش منظر پر کھل کر اظہار خیال کیا جو نذر ِ قارئین ہیں۔
شمشاد احمد خان
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں آزادی کے فوری بعد دوروں کے دورے پڑنے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری چھوٹی سی مشینری تھی جو ساری اس کام میں لگی ہوتی تھی کہ وزیراعظم کہاں سے کیسے پیسے لاسکتا ہے۔ ہم نے اگر امریکا میں اپنا سفیر بھی مقررکیا تو اس لیے کہ کچھ پیسے لے آؤ۔ ہم نے پاکستان بنتے بھی دیکھا اور ٹوٹتے بھی ۔ ہمارے سرکاری دفاتر گھاس پر بیٹھ کر چلائے جاتے تھے۔ اس وقت تو بات قابل فہم تھی کہ لیاقت علی خان کا امریکی دورہ کیوں تھا کیونکہ اس وقت پاکستان کو زندہ رکھنا بھی ضروری تھا کیونکہ انڈیا کی طرف سے بڑی سکیورٹی تھریٹس تھیں۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں آزادی کے فوری بعد دوروں کے دورے پڑنے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری چھوٹی سی مشینری تھی جو ساری اس کام میں لگی ہوتی تھی کہ وزیراعظم کہاں سے کیسے پیسے لاسکتا ہے۔ ہم نے اگر امریکا میں اپنا سفیر بھی مقررکیا تو اس لیے کہ کچھ پیسے لے آؤ۔ ہم نے پاکستان بنتے بھی دیکھا اور ٹوٹتے بھی ۔ ہمارے سرکاری دفاتر گھاس پر بیٹھ کر چلائے جاتے تھے۔ اس وقت تو بات قابل فہم تھی کہ لیاقت علی خان کا امریکی دورہ کیوں تھا کیونکہ اس وقت پاکستان کو زندہ رکھنا بھی ضروری تھا کیونکہ انڈیا کی طرف سے بڑی سکیورٹی تھریٹس تھیں۔
ہم نے ماسکو سے سٹالن کی آئی ہوئی دعوت کو ردکردیا ، امریکا کو پتہ چلا تو اس نے ہم سے میچ کرلیا ، پھر لیاقت علی خان نے دو ہفتے کا طویل ترین دورہ کیا، لیکن لگتا ہے کہ اب دورے کی طوالت اور تعداد کے ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف بھی پانچ ماہ میں آٹھ ملکوں کا دورہ کرچکے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کے ایک دورے کا مقصد تو پاکستان کو نیوکلیئر طاقت تسلیم کروانے کے سلسلے میں تھا جس میں امریکا نے ہمیں انڈیا کے برابر تسلیم کیا تھا۔ اس وقت ہم نے کوئی دباو تسلیم کئے بغیر اپنی برابری تسلیم کرائی۔ اس پر امریکیوں نے کہا کہ آئندہ جب بھی کوئی سزا یا جزا دینی ہوگی اس میں ہم دونوں ممالک سے ایک طرح سے سلوک کریں گے۔ وزیراعظم نوازشریف نے ایک امریکی دورہ جنرل پرویز مشرف کے کارگل سٹیج کے تناظر میں کیا تھا جس کا فارن آفس تک کو علم نہیں تھا خود مجھے ایک روز پہلے بتایا گیا اور امریکا میں ان کا استقبال پرنس بندر بن سلطان نے کیا تھا۔ یہ جنرل مشرف کا درخواست کردہ دورہ تھا کہ کارگل سے ان کی جان چھڑوا دی جائے۔
نوازشریف کا ایک ذہن ہے کہ بھیک نہیں لینی ، جو درست ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ ان کے وزراء آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کا کام کرتے رہیں گے۔ مشرف کی بھی یہی پالیسی تھی، اس نے جب بھی چین سے مانگنا ہوتا تھا تو اپنے وزیر خزانہ شوکت عزیز کو بھجوا دیتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس دورے کا مقصد یہ تھا کہ جنرل مشرف کے دور میں چونکہ دونوں ملکوں کے مابین ڈائیلاگ کی ریسٹوریشن ختم ہوگئی تھی ، صدر زرداری کو اوباما نے شرف ملاقات بھی نہیں بخشا تھا اور وہ این آر او زدہ ہونے کی وجہ سے ان کی آنکھ میں آنکھ ملا کر بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔ میاں نوازشریف کا البتہ بڑا اچھا استقبال ہوا لیکن اس میں بھی پروٹوکول کی چند خامیاں رہ گئی تھیں۔اس دورے اور اوباما سے ملاقات کے بعد امریکا اور پاکستان دونوں ایک بار پھر ٹریک پر آگئے ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ ہر مسئلے کا حل صرف اور صرف ڈائیلاگ ہوتے ہیں اور امید ہے کہ یہ سلسلہ چل پڑنے سے امریکا اور ہمارے آئندہ کے کنسرنز دور ہوجائیں گے۔ ہماری ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم امریکا، چین ، جاپان یا روس کہیں بھی چلے جائیں ذہن میں یہی ہوتا ہے ہمیں ملے گاکیا۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی نہیں بلکہ مجموعی طور پر قوم کی سوچ بن چکی ہے جس میں میڈیا بھی ساتھ مل جاتا ہے۔ ملاقات کی رات میں نے اپنا ٹیلیفون بند کرکے رکھا اور میڈیا رات گئے تک رابطے کی کوشش کرتا رہا۔ میرے سامنے تو یہ معمول کا دورہ تھا جس کے مقاصد بڑے محدود تھے جو حاصل ہوگئے ہیں۔ اس ملاقات میں کوئی معجزہ نہیں ہونے والا تھا۔ میں کہتا ہوں حکمرانوں کو مت لتاڑیئے خود اپنے بارے میں سوچیں کہ ان حکمرانوں سے اتنی توقع کیوں رکھی جو ڈلیور نہیں کرسکتے۔ ہم پہلے یہ تو دیکھیں کہ انہوں نے اپنے گھر میں یعنی ہمیں کیا دیا ہے۔
جب یہ ملک حالت جنگ میں ہے جس ملک میں سوسو افراد دہشت گردی کی نذر ہوجائیں اور اس کا حکمران باہر کے دورے کررہا ہو ۔ اصل میں ہم خود بے حس ہوچکے ہیں، قبائلی علاقوں کو ہم اپنے ملک کا حصہ ہی نہیں سمجھتے ، اگر حکمران بھی ان علاقوں کو ملک کا حصہ سمجھتے تو آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔ موجودہ وزیراعظم کی بات نہیں شوکت عزیز نے اپنے دور میں ایک سوسے زائد دورے کیے حالانکہ من موہن سنگھ صرف بہت ضروری دوروں پر باہر جاتے ہیں۔ ہمارے مسئلوں کا حل الریاض، ابوظہبی، واشنگٹن کے پاس نہیں بلکہ پاکستان کے اندر ہے۔
طالبان سے مذاکرات کی اپیل واشنگٹن جاکر نہیں بلکہ یہاں ان سے بات کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنی ترجیحات قائم کرنا ہونگی۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ گاڑی کو آگے رکھتے اور گھوڑے کو پیچھے باندھتے ہیں۔ مان لیں اگر امریکہ ہمیں گریٹر مارکیٹ ایکسیس دے بھی دے تو ہوزی آئٹمزکے علاوہ ہمارے پاس ہے ہی کیا ایکسپورٹ کرنے کو ، اس سے زیادہ تو سری لنکا ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ فیکٹریاں آپ کی بند پڑی ہیں ، بجلی کہیں ہے نہیں ، ہم تو ملکی ڈیمانڈ پوری نہیں کر رہے ۔ شرم آنی چاہیے کہ ساٹھ سال بعد بھی ہم کاٹن یارن ہی باہر بھیج رہے ہیں ، ہم نے کبھی اپنی ایکسپورٹس میں ویلیو ایڈیشن کا سوچا بھی نہیں ۔ پاکستان جیسے حالات والے ملک میں تو کوئی پاکستانی بھی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ، یہاں سے کتنا پیسہ روز باہر جا رہا ہے۔
جس ملک کی معیشت ٹھیک نہ ہو وہاں سے پیسہ باہر ہی جائے گا۔ اس سے بھی زیادہ معاملہ امن وامان کی خراب صورتحال اور سکیورٹی والا ہے ۔ جب آپ روز ایس آر اوز کیلئے پالیسیاں تبدیل کردیتے ہیں تو کون انویسٹمنٹ کرے گا۔ ہمارے حکمران دوروں کے اگر اتنے ہی شوقین ہیں تو ضرور کریں لیکن چھ ماہ تک ملک کے اندر بیٹھ کر کام کریں تب آپ کے دوروں کی قدر بھی ہوگی۔ مسئلہ پاک امریکا تعلقات کا نہیں بلکہ ان کی نوعیت کا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنے ذاتی اقتدار اور مفادات کو اہمیت دے رکھی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے پاس اکثریت ہے اس لیے وہ خود کو مفلوج نہ سمجھیں ۔ امریکا نے جب بھی کوئی کام ہم سے کروانا ہوتا ہے تو کہتا ہے یہ کردو اور اس کی مزدوری وہ ہمیں دے دیتا ہے۔ چین، ایران، افغانستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ اب امریکا بھی فزیکلی طور پر ہمارا ہمسایہ بن چکا ہے جو نہ صرف افغانستان بلکہ مڈل ایسٹ میں بھی بیٹھا ہوا ہے۔ بہر حال امریکا سے برابری کی سطح پر تعلق ہونا چاہیئں اس کے لئے پہلے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر ہمایوں احسان
میڈیا ہلکی پھلکی ہائپ کری ایٹ کرتا ہے یہ اس کا کام ہے تاکہ لوگوں میں آگہی پیدا ہو اور ہمارے سیاست دان اور عوام کھڑے ہو جائیں اور آنکھیں کھول کر بات کریں۔ ملکی سلامتی کی بات کرلینے میں انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند والی کیا بات ہے، میاں نوازشریف نے سلامتی کی بات کرکے ٹھیک کیا ہے۔ پاکستان میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ڈرون گرادیں ، لوگ کہتے ہیں ڈرون حملے بندکروا دیں۔ ڈرون حملے بند کروانے اور ڈرون گرانے ان دونوں مطالبات میں بہت فرق ہے۔
میڈیا ہلکی پھلکی ہائپ کری ایٹ کرتا ہے یہ اس کا کام ہے تاکہ لوگوں میں آگہی پیدا ہو اور ہمارے سیاست دان اور عوام کھڑے ہو جائیں اور آنکھیں کھول کر بات کریں۔ ملکی سلامتی کی بات کرلینے میں انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند والی کیا بات ہے، میاں نوازشریف نے سلامتی کی بات کرکے ٹھیک کیا ہے۔ پاکستان میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ڈرون گرادیں ، لوگ کہتے ہیں ڈرون حملے بندکروا دیں۔ ڈرون حملے بند کروانے اور ڈرون گرانے ان دونوں مطالبات میں بہت فرق ہے۔
ہم ڈرونز گرانے کو عقل کے قریب نہیں سمجھتے جبکہ ڈرون حملے بند کروانے کا مطالبہ ہمارا جائز حق ہے اور اس مطالبے میں دنیا بھی ہمارے ساتھ ہے بین الاقوامی قانون بھی یہی کہتا ہے تو یہ مطالبہ کرنا اتنا ناجائز نہیں ہے ۔ وزیراعظم کا امریکا کے ساتھ گفتگوکی حد تک یہ دورہ کامیاب ہے اور اگر وزیراعظم کی تنہائی کی ملاقات والی خبر ہم تک نہیں پہنچ سکی۔ اگر وہ دونوں پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ ان کا دورہ کامیاب ہوا تو ہمیں ان کی بات مان لینی چاہیے۔ دوسری جو باتیں ہمارے سامنے اوپن ہوئیں اس میں کامیابیوں کا اعلیٰ معیار نظر نہیں آتا۔ نوازشریف کشمیرکی بات نہ کرتے تو بھی غلط تھا اور اگر کی تو ہمیں کیا ملا۔ اس ملاقات کے ایجنڈے کی باتیں تو شمشاد خان جیسے تجربہ کار لوگ ہی بتاسکتے ہیں۔ امریکہ نے تو آپ کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں۔اس نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی بات کرنا بند کردیں کیونکہ یہ بات اس کے خلاف ہے جو ہمارا سٹریٹجک پارٹنر ہے۔
قوم میں سیاسی میچورٹی پیدا کرنے کے لئے انہیں سابق صدر ایوب خان اور موجودہ وزیراعظم نوازشریف کے حالیہ دورۂ امریکہ کی دس دس تصاویر دکھا دیں جس سے انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم کہاں سے کہاں کس تیزی سے جارہے ہیں۔ اب سیاست میں ایک فیکٹر عمران خان کی صورت میں آیا ہے جس نے ڈرون حملوں کے خلاف بات کی ہے اور بعض لوگوں نے انہیں غیرت بریگیڈ قراردیا ہے اور اچھا کیا ہے، دوسروں کو بھی ڈرون حملے رکوانے کی بات کرنی چاہیے ۔
دورہ امریکہ میں وزیراعظم نے امریکی صدر اوباما سے مسئلہ کشمیر اور ڈرون پر جو بات کی تو سننے والے کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ اس کے کہنے کا کیا مقصد ہے اور وہ کس مجبوری سے کہہ رہا ہے لیکن اس کے جواب میں رسپانس یہ ملاکہ انہوں نے اپنی ایک سانس بھی ضائع نہیں کی۔ یورپ میں ٹیلیفون والے معاملے پر بھی صدر اوباما نے جواب تک نہیں دیا اسی طرح اوباما نے اپنا سٹانس ریزروکردیا کوئی بات نہ کرکے، ان کے بیانات میں واضح ہوتا ہے کہ اوپر سے نیچے پانی بہتا نظرآرہا ہے۔
حالیہ امریکی دورے کا مقصد محض صدر اوباما سے ملنا ہی نہیں تھا بلکہ وزیراعظم نے بزنس کمیونٹی اور دیگر پاکستانیوں سے بھی خطاب کیا تو کیا ان میں سے کسی ایک نے بھی انہیں کوئی پازیٹو رسپانس دیا ؟اور کہاکہ ہم ملک پر کچھ نچھاور کرینگے ، میڈیا ان کی گفتگو بھی ہم تک پہنچاتا، وزیراعظم ان سب سے کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں لیکن کیا سب سمندر پار پاکستانی بھی ملکی مفاد کے خلاف ہیں؟ کیا وہ سب پاکستان کے لیے نہیں سوچتے ؟ الیکشن میں بہت سے پاکستانی جہازوں پر بیٹھ کر آئے تھے۔کیا امریکا میں کوئی سفیر یا ہوا کا رخ بھی تبدیل ہوا ہے جو چیزیں ان کے لئے ضروری تھیں نوازشریف نے انہیں کنٹرول کیا ہے۔ مسائل پر کامیابی والی تو کوئی بات نہیں۔ ایک چیز جو نظر آئی کہ سابق صدر مشرف دورکے کچھ پراجیکٹس کو ریوائیو کیا گیا اور مشرف کو دوغلاپن والا سمجھتا تھا لیکن وزیراعظم نوازشریف پر یہ الزام نہیں ہے۔
ایڈمرل (ر) جاوید اقبال
ہم ہر معاملے میں اس بچے کی طرح بہت سی توقعات لگا لیتے ہیں جو چاہتا ہے کہ اسے کھیلنے کے لئے گیند ملے اور فوری ملے ورنہ وہ چیزیں توڑنا پھوڑنا شروع کردیتا ہے۔ اگر کوئی یہ سوچتا تھا کہ امریکا کے دورہ سے کچھ ملے گا تو یہ خام خیالی تھی، دورے کی ابتداء سے دانش ور اپنے تجزیوں کے ذریعے نئی نئی چیزیں نکالنا شروع کردیتے ہیں جبکہ یہ کوئی نیا دورہ نہیں تھا، اس دورے میں نئی بات سمجھنا جو کہ اس میں ایک صرف یہ ہے کہ ایک منتخب حکومت نے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار دیا اور موجودہ وزیراعظم پاکستان کی صرف یہ اہمیت تھی کہ ملک میں 65سال بعد ایک جمہوری حکومت کے بعد دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کے بعد منتخب ہونے والا وزیراعظم تھا۔ جمہوریت کا جو پودا ہمارے ہاں ہے اس کا قد اس کے برابر نہیں ہے جو واشنگٹن میں ہے۔
ہم ہر معاملے میں اس بچے کی طرح بہت سی توقعات لگا لیتے ہیں جو چاہتا ہے کہ اسے کھیلنے کے لئے گیند ملے اور فوری ملے ورنہ وہ چیزیں توڑنا پھوڑنا شروع کردیتا ہے۔ اگر کوئی یہ سوچتا تھا کہ امریکا کے دورہ سے کچھ ملے گا تو یہ خام خیالی تھی، دورے کی ابتداء سے دانش ور اپنے تجزیوں کے ذریعے نئی نئی چیزیں نکالنا شروع کردیتے ہیں جبکہ یہ کوئی نیا دورہ نہیں تھا، اس دورے میں نئی بات سمجھنا جو کہ اس میں ایک صرف یہ ہے کہ ایک منتخب حکومت نے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار دیا اور موجودہ وزیراعظم پاکستان کی صرف یہ اہمیت تھی کہ ملک میں 65سال بعد ایک جمہوری حکومت کے بعد دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کے بعد منتخب ہونے والا وزیراعظم تھا۔ جمہوریت کا جو پودا ہمارے ہاں ہے اس کا قد اس کے برابر نہیں ہے جو واشنگٹن میں ہے۔
اگر قوم نے اس کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے تو ایک اس کی ذات کے حوالے سے ہے اور دوسرا اس کے عہدے کے حوالے سے اس کی اچیو منٹ ہو سکتی تھی۔ ان کی ذات کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو اچیومنٹ اچھی تھی۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک تالاب میں 4تیراک چھوڑ دیئے جائیں ایک کی ٹانگ بندھی ہو اور ایک کی ٹانگ زخمی ہو تو اس کی کارکردگی آزاد ٹانگ والے کی کارکردگی کے برابر نہیں ہو سکتی۔ اس دورے کی کامیابی یہ ہے کہ پاکستان کی پہچان بدلی گئی، جس ملک میں فوج کے مطیع حکمران ہوا کرتے تھے وہاں ایک منتخب آزاد وزیراعظم ہے، جی ایچ کیو کی طرف سے منتخب حکومت نہیں تھی۔
مسئلہ کشمیر اور ڈروں حملوں کے مسئلے پر بات ہوئی ہے ۔ دانشوروں نے اپنے تجزیوں سے عوام کے ذہن میں اس دورے کے حوالے سے بہت سی توقعات بنا دی تھیں اور جب یہ توقعات پوری نہیں ہوئیں تو پریشان ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اور امریکا کا کوئی موازنہ نہیں ہے، امریکا واحد سپر پاور ہے اور وہ سوچتا ہے کہ واحد سپر پاورہونے کے ناتے ابھی تک پوری مڈل ایسٹ میں اس کا کنٹرول نہیں ہے اور جن ممالک میں روس کا اثرو رسوخ ہے ان میں عرب سپرنگ کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے اس لئے وہاں حالات خراب کئے جا رہے ہیں۔
وہ لوگ جو پاکستان میں ڈکٹیٹروں کی ملازمت کرتے تھے اور وہ ملک جہاں وزیراعظم جی ایچ کیو کا طواف کرنے کے بعد وزیراعظم بنتا تھا وہاں انہیں جمہوریت ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ ایک جرنیل کا کام ملک کی حفاظت کرنا ہوتا ہے مگر جہاں مرد مومن مرد حق ضیاء الحق ضیاء الحق کے نعرے لگیں اور ایک جرنیل ملک کی نظریاتی سرحدوں بھی قائم کرے وہاں جمہوریت کو ہضم کرنا مشکل ہے۔ ایک ٹیم اگر مسلسل میچ کھیلتی رہے تو وہ غلطیاں کرکے سیکھتی ہے اور اپنا کھیل بہتر کر لیتی ہے ہمارے ہاں بھی جمہوریت کو موقع ملنا چاہیئے۔ نواز شریف کا دورہ اس حوالے سے کامیاب رہا کہ انہوں نے ڈرون حملوں، مسئلہ کشمیر اور پانیوں کے حوالے سے بات کی۔ وزیراعظم کی طرف دیکھنے سے پہلے کہ وہ کیا لے کر آئے یہ سوچیں کی وہ اپنے سسرال نہیں گئے تھے کہ کچھ لے کر آتے۔
دنیا میں 193ممالک ہیں اور ان کے سربراہان ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیںاور اپنے مسائل ایک دوسرے کو بتاتے ہیں، نواز شریف نے بات کی ہے اگر کوئی یہ سمجھے کہ ڈرون گرا دے تو کوئی مائی کا لال ایسا نہیں ہے جو ڈرون گرائے اور پھر اس کے نتائج بھگتے۔ ہم صرف گھاس کھانے کی بات کرتے ہیں کبھی گھاس کھانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
اس وقت ہم مشکل حالات میں ہیں ان کو دیکھنا چاہیے۔ امریکا آج تک جہاں گیا وہاں سے نہیں نکلا وہ سعوری عرب ہو، عراق یا اب افغانستان سے بھی نکلے گا نہیں ۔ ضیاء الحق اور مشرف نے ملک بیچ دیا ۔ عوام کو صحیح صورتحال بتانی چاہیے، اس وقت تو ہمیں اپنی پہچان بنانے کی بھی ضرورت ہے ، اس لئے اگر نواز شریف نے کارکردگی نہ دکھائی تو ان کا حال بھی پہلے والوں جیسا ہوگا اور دوسری طرف عمران خان ہیں انہوں نے اگر خیبر پختونخوا میں کارکردگی دکھائی تو عوام ان کو دعوت دیں گے کہ وہ آجائیں۔
بریگیڈیئر(ر) سید غضنفر علی شاہ
پاکستان امریکا تعلقات کو آج سے نہیں بلکہ جب سے ہمیں آزادی ملی تب سے دیکھنا ضروری ہے، موجودہ صورتحال میں اگر ماضی میں جائیں تو 2001ء کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ جس کی ابتداء 9الیون سے ہوئی اور ابھی تک اس کی انتہاء نہیں ہوئی ہے اس کا فال آؤٹ افغانستان پر ہوا۔ پاکستان اور دونوں جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں دونوں ہمسایہ ممالک ہیں اور دونوں سرحدوں کی طرف ایک جیسے قبائل رہتے ہیں اور ان تمام قبائل کو ایک دوسرے کی طرف آنے جانے کی آزادی ہے۔
پاکستان امریکا تعلقات کو آج سے نہیں بلکہ جب سے ہمیں آزادی ملی تب سے دیکھنا ضروری ہے، موجودہ صورتحال میں اگر ماضی میں جائیں تو 2001ء کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ جس کی ابتداء 9الیون سے ہوئی اور ابھی تک اس کی انتہاء نہیں ہوئی ہے اس کا فال آؤٹ افغانستان پر ہوا۔ پاکستان اور دونوں جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں دونوں ہمسایہ ممالک ہیں اور دونوں سرحدوں کی طرف ایک جیسے قبائل رہتے ہیں اور ان تمام قبائل کو ایک دوسرے کی طرف آنے جانے کی آزادی ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں اس صورتحال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اس وقت خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک جہوری حکومت نے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار دیا اور عوام نے نئی حکومت کو مینڈیٹ دیا ہے، اب نئی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی ترجیحات طے کرنی تھیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی پالیسی بنانا تھی۔ جغرافیائی طور پر دیکھیں تو پاکستان ایسی جگہ پر واقع ہے کہ اس کہ بہت اہمیت ہے اس کی جغرافیائی موجودگی نہ کوئی تبدیل کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت سے انکار کر سکتا ہے۔
اس کے ایک طرف روس اور دوسری طرف چین ہے اور دونوں بڑی طاقتیں ہیں۔ پاکستان کی اسی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے اس کے معرض وجود میں آنے سے اب تک اس پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ امریکا اور روس کی نظریں تو ہم پر ہیں ہی اور دوسرا ہمارا ہمسایہ بھارت ہے جو آج تک یہ سمجھتا ہے کہ ہم نے اس کی دھرتی ماتا کو کاٹ دیا اس لئے آج تک اس نے ہمیں قبول نہیں کیا اور جب بھی موقع ملتا ہے ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے، 1965ء یا 71ء کی جنگ ہو یا کوئی اور موقع وہ ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
مختلف حالات اور چیزیں خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان ابتداء میں فوجی اور صنعتی حوالے سے اس قابل نہیں تھا کہ ملک چل سکے اور اس وقت ہمیں دوسروں پر انحصار کی ضرورت تھی، اس وقت اگر بیرونی امداد کی بات کی جاتی تو سمجھ میں آنے والی بات تھی مگر اس کے بعد ہم نے مختلف ادوار میں ترقیاتی منصوبے بنائے مگر ان پر عمل نہیں کیا جبکہ ہمارے ترقیاتی منصوبے دیگر ممالک نے اپنائے اور ترقی کی اور ہم خود ابھی تک کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔ یہ سب ہماری اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ جب سوویت یونین نے روس پر حملہ کیا تو ہم نے اسلام کے نام پر اس کے خلاف لڑنا شروع کردیا ، جو نظریات اس وقت عام کئے گئے انہوں نے تقویت پکڑی ۔ مجاہدین کے نام پر لوگوں کو یہاں لایا گیا اور روس کے ٹوٹنے کے بعد امریکا نے انہیں چھوڑ دیا۔
اس وقت پوری دنیا سے غیر ملکی اور عرب اور دیگر ممالک سے لوگ افغانستان میں لائے گئے اور بعد میں وہ یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ امریکا کی اس علاقے کے بارے میں ایک الگ سوچ ہے اس حوالے سے ایک کتاب بھی شائع ہوئی ہے جس میں لکھاگیا ہے کہ امریکہ کیسپیئن سی کے تیل کو حاصل کرنے کیلئے بلیک واٹر کا استعمال کر رہا ہے۔ بلیک واٹر کا استعمال اس لئے کر رہا ہے کہ چیلنجز کے مقابلے میں ملکی پالیسی بنانے کے کام آئے۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جب بھی ہم امریکا کے پاس جائیں اپنے مفاد کو سامنے رکھیں۔ امریکا سے امداد آتی رہتی ہے اور مختلف ادوار میں اس میں تبدیلی بھی آتی رہی، کبھی فوجی امداد زیادہ اور معاشی کم اور کبھی معاشی امداد زیادہ اور فوجی امداد کم ملتی رہی۔ پاکستان صر ف اکیلا ملک نہیں ہے جس کو امریکا امداد دیتا ہے بلکہ 20ممالک جو امریکا سے امداد لیتے ہیں، اس امداد کا 30فیصد صرف افغانستان کو جاتا ہے ، 6فیصد اسرائیل اور صرف 3فیصد پاکستان کو ملتا ہے جبکہ عراق کو بھی ہم سے زیادہ امداد ملتی ہے۔
پاکستان کی جب بھی امریکا سے تعلقات کی بات ہوتی ہے تو اس میں یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ ہم نے امریکا سے مدد لینی ہے، جو پارٹی حکومت میں آتی ہے وہ ملکی مفاد کی بجائے اپنے ذاتی یا پارٹی مفاد کو سامنے رکھ کر تعلقات بناتی ہے جبکہ ملکی مفاد کو پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ امریکا جب بھی ہمیںکوئی امداد دیتا ہے تو اس میں ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی شامل نہیں ہوتی تاکہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہوسکیں۔ جب بھی ہمیں کوئی فوجی آلات یا اسلحہ دیا جاتا ہے تو تیار حالت میں دیا جاتا ہے نہ اس کی ٹیکنالوجی دی جاتی ہے اور نہ اس کی مرمت کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔
اس ساری صورتحال پر ہم امریکہ کو الزام دیتے ہیں مگر ہم نے اپنی طرف کبھی نہیں دیکھا، امریکا کے اپنے قومی مفادات ہیں مگر ہمارے ہاں قومی مفاد پارٹی مفاد میں ضم ہوجاتا ہے، ہر پارٹی اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتی ہے، جب تک ذاتی مفاد سے آگے نہیں بڑھیں گے ہم اپنے معاملات حل نہیں کرسکیں گے۔ نواز شریف کا دورہ امریکہ بھی انہی حالات کے تناظر میں تھا ، اس دورے میں یہ تھا کہ دہشت گردی کی جنگ میں کون سی چیز سب سے زیادہ متاثر کررہی ہے تووہ ہیں ڈرون حملے ان پر بات ہوئی، اس کے علاوہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا کشمیر کا مسئلہ ہے جس پر بھارت اپنے آباؤ اجداد جنہوں نے اس مسئلے کو مانا تھا اس سے بھاگ گئے ہیں اور اب وہ اسے اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہیں، اس پر ہم نے اپنے تحفظات پیش کردیئے ہیں مگر ہماری مجبوریاں اتنی ہیں کہ ہم اپنے مفاد کو حاصل نہیں کرسکے اس لئے ہمیں ان کی سننا پڑتی ہے۔
ہم نے چھوٹا ملک ہونے کے باوجود چین کے ساتھ امریکا کے تعلقات بنائے اور روس کے ساتھ جنگ لڑی مگر امریکا کی طرف سے جو رسپانس ملنا چاہیئے تھا وہ نہیں ملااور لوگوں کی جو توقعات تھیں وہ بھی پوری نہیں ہوئیں۔ اب امریکا افغانستان سے انخلاء کے نام پر بھی گریٹ گیم کر رہا ہے اور وہ وسط ایشیائی ریاستوں کے وسائل اور تیل کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہ رہا ہے اور وہ اپنا مفاد ضرور رکھے گا۔
Friday, November 8, 2013
Sacrifice of PMLN
Friday, November 08, 2013
akhbar jahan, General Elections 2013, Hanif Khalid, Mian Nawaz Sharif, news reports, Third Tenure
No comments
Thursday, November 7, 2013
Bhasha Dam as vital as N-programme
Thursday, November 07, 2013
Ahsan Iqbal, Bhasha Dam, Business Recorder, Mega Projects, Power generation
No comments
Editorial of Business Recorder | Bhasha Dam as vital as N-programme
When nukes-centric security against foreign aggression became imperative Pakistan had it by making the bomb. Now the country needs water security to ward off the demons of anger and hunger by judiciously utilising its water resources. This is essential for sustainable development, now under threat of disruption given the lingering curse of energy shortages and less than needed supply of water for irrigation. Now therefore there is the need to build new dams, and none seems more viable at the moment than to go ahead with urgent construction of Bhasha Dam. The Bhasha Dam project, says Minister for Planning and Development Ahsan Iqbal, is "as important as Pakistan's nuclear programme once was". Therefore, "we have decided to build this dam at any cost, even if it requires us to tighten our belts". Already, a sum of Rs 250 billion has been set apart for it in the current budget for the purpose of purchasing the land for the dam site and its vast reservoir. That is, of course, not enough of tightening the belts; much more funds would be required as the work progresses. But even then Pakistan would need foreign financial assistance. So, Ahsan Iqbal is now in Washington, and had spoken to the International Food Policy Research Institute, before his meeting with the World Bank chief. He rightly warned that if dam is not built in next 10 years or so "we will have a water crisis so acute that people will forget the energy crisis". Not building the dam means having "millions of half-fed and unemployed people" in Pakistan, and that is going to negatively impact the entire South Asia and beyond.
It is that Ahsan Iqbal's 'threat' of implosion in Pakistan should be the only incentive for the World Bank and other international financial institutions to muster support for the Bhasha Dam project. Conserving water resources is the growing challenge; fresh water availability is decreasing all over the planet given the global climate change. The world may or may not go for a nuclear exchange but if not attended in time the water scarcity is bound to trigger not only regional conflicts but also trigger serious economic disruptions and huge transmigrations. Thanks to global warming - the Himalayan snowmelt is already in progress - generating fear that these snows may completely disappear by the turn of the century. Disruption of fresh water caused by global warming is bound to alter agricultural productivity, negatively impact fresh water supply for human consumption, unleash out-of-season flooding and take away the livelihood of millions of fishermen. So, if nuclear proliferation was a threat to international peace during the last century, the absence of water security is going to be a no lesser threat to international peace in the 21st century - obliging the international community to construct effective counteraction mechanism. Should this issue be treated less indulgently it has the right potential to feed inter-state regional tensions, disrupt intra-state cohesion and stability and produce food-searching hordes across the national borders - all of these, the ammo for future water wars.
For many reasons, some political and some economic but most of these consequential to poor government planning, Pakistan now faces not only crippling energy shortages, reduced supply of irrigation water but also heavy floods with related misery to millions of people. Working together these problems have significantly added to number of Pakistanis living below the poverty level. It's not that the Bhasha Dam project is going to take care of all these problems. But it shall make the difference, a difference that would be visible to the naked eye. On completion, it will produce 4500 MW of electricity, store some 8.5 million acres feet of water, extend the life of Tarbela Dam by 35 years and greatly help control the annual bane of floods. But Pakistan cannot build it on its own, requiring timely financial assistance of international financial institutions. The viability of the project has been established, which is evident from the fact that quite a few renowned consultant firms are in the race to join this project.
http://www.brecorder.com/editorials/0:/1251378:bhasha-dam-as-vital-as-n-programme/
Third Time Prime MInister |
Thursday, November 07, 2013
akhbar jahan, General Elections 2013, Hanif Khalid, Mian Nawaz Sharif, news reports, Third Tenure
No comments
Radio Pakistan | First Phase of Karachi Operation 2013
Thursday, November 07, 2013
Ch. Nisar, karachi, Karachi Operation 2013, Radio Pakistan, Senate, War against terrorism
No comments
Ch. Nisar Ali Khan on Karachi Operation
By Haroon Baloch
The Senate was informed today that six hundred seventy-seven targeted raids have been carried out and around nine thousands criminals arrested in Karachi since 5th September in order to control the killings of citizens.
Interior Minister Chaudhary Nisar Ali Khan told the House during question hour that main reasons of target killings in Karachi are ethnic‚ sectarian‚ fighting among various politico-religious groups‚ land grabbing under the umbrella of political parties and turf war among different groups also believed to be backed by major political parties. He said after the decision made by the Federal Cabinet on 4th September in Karachi‚ government has successfully carried out targeted operations. He said so far 36293 ammunition‚ 1252 other weapons have been recovered while 1586 criminals have been arrested.
He said Karachi police in coordination with Sindh Rangers and intelligence agencies has also carried out 5077 raids and 9000 criminals have been arrested. He said 330 encounters have also taken place in which 34 criminals were killed.
The Minister said that a committee headed by Chief Minister Sindh has been constituted to review the law and order situation in Karachi whereas an operational committee comprising DG Rangers‚ IG police Sindh and representatives of intelligence agencies has also been working on ground.
Lauding the role of political parties and intelligence agencies‚ Chaudhry Nisar Ali Khan said some elements have tried to damage the joint efforts of political parties‚ however‚ all of them have played constructive role in controlling Karachi situation despite the fact that there were some legitimate reservations of the political parties including MQM. He said the disturbing area comprises around 20 percent of the whole city‚ however‚ fallout of law and order situation affects other areas.
Replying to a question‚ the minister excused to disclose the timeframe of the operation due to security reasons. He‚ however‚ said operation has entered into second phase. He said the objectives of the operation have met as significant decrease in events of target killings and extortions has been recorded.
http://www.radio.gov.pk/newsdetail-57053
Solar PV generation | Agreement of Punjab Govt. with Canada
Thursday, November 07, 2013
Canada, Power generation, Punjab 2013-2018, Saach, Solar Energy
No comments
Wednesday, November 6, 2013
Interview
Wednesday, November 06, 2013
Bilal Yasin, Daily Waqt, Drone attacks, Interviews, PMLN, Punjab 2013-2018
No comments
Bilal Yasin | Provincial Minister for Food
This interview was published in Daily Waqt Dated Nov 03, 2013
Sunday, October 20, 2013
Quetta saved from Terrorism
Sunday, October 20, 2013
bye elections, news reports, Nidai MIllat, Quetta, War against terrorism
No comments
Thursday, October 17, 2013
Speech
Thursday, October 17, 2013
Address, Mian Nawaz Sharif, PM Youth Scheme, PMLN government 2013, Speech
No comments
PM Nawaz Sharif Address to the Nation
Dated September 21, 2013“My dear elders, brothers, sisters and the youngsters who hold the key to the future.I am not here today with a long speech, but I will briefly state some of the initiatives which had been promised in our manifesto,and I had been mentioning during the election campaign. Today we are beginning a journey for the fulfillment of promises,this is the first step in a long journey.With the passage of time,these steps will not only be enhanced but we will allocate more and more resources towards their fulfillment.
This government aims to immediately resolve all issues confronting Pakistan,so that the economy would be strengthened in such a manner that we shall not require any foreign assistance.
Billions of rupees could be saved each year, which are spent on the government institutions functioning in deficit.This amount could be utilized on the schemes for the welfare of common man, education and training of youth and creating new opportunities for the youngsters.
As I have told before,that every year we spend approximately Rupees 500 billion on the government institutions which are run in losses.These 500 billion, if available to the government, can be utilized on such financial initiatives, that could bring a revolution in the lives of underprivileged classes and youngsters.
Although we face a shortage of resources and financial difficulties, we are fulfilling our promises and initiating programmes though not revolutionary, but they will open new avenues for the welfare of underprivileged segments and youngsters.
The main idea of these initiatives is to provide financial opportunities for making these segments self reliant and self sufficient in their development.
Globally job opportunities in the public sector are decreasing,same is the case in Pakistan where such opportunities are becoming lesser with each day.
One of the reasons behind the weakening state institutions is over-staffing due to rampant nepotism and political appointments. Unable to support such a burden,these institutions have fallen in to rubble.Institutions like PIA, Steel Mills and Railways are just a few examples of nepotism, favoritism and financial mismanagement.
It is in the interest of the nation and the state to strengthen private sector, and to provide the people with opportunities of self reliance.So that instead of running after jobs,they could stand on their own feet to provide a livelihood to their families.
For this purpose,the government is launching SIX programmes for the youth.
MICRO INTEREST FREE LOANS
The first programme is Micro Interest Free Loans, which will be focused on those segments of society who are financially weak. 3.5 billion rupees have been allocated for this scheme. 250 thousand people will benefit from this scheme. These loans would be interest free.
SMALL BUSINESS LOANS SCHEME
The second scheme is Small Business Loans Scheme. This scheme is for those educated youngsters, who wish to start their own business.50 per cent of these loans will be provided to women. These loans ranging from 500 thousand to 2 million rupees, will be given with a discounted interest rate of 8 percent.The rest will be paid by the government.Initially these loans will be provided through the National Bank of Pakistan and First Women Bank. Five billion rupees have been allocated for this scheme.
YOUTH TRAINING SCHEME
It is the third programme, being initiated by the government for educated youngsters. Under this programme, young educated people having acquired 16 years of education from recognized institutions will be provided on-the-job- training, so that they could get job opportunities in the country or abroad. During the training a monthly stipend of rupees 10 thousand will be given to the worker for a training period of 6 months. Four billion rupees have been allocated for the purpose and 50 thousand graduates will benefit from the scheme.
YOUTH SKILL DEVELOPMENT SCHEME
The youth skill development scheme is aimed at providing vocational training to such youngsters who are jobless. Boys and girls up to 25 years of age will be able to benefit from the scheme, who have gained middle level education (8th Grade). These youngsters will be given a monthly stipend worth 3-5 thousand rupees, for a period of 6 months. The government will bear their fee. 800 million rupees have been allocated for this programme.
FEE PAYMENT FOR UNDER PRIVILEGED AREAS
The fifth scheme is for (male & female) students who come from far flung areas of the country, and want to acquire higher education. Any talented student should not be deprived of educational opportunities, only because his or her parents cannot afford the academic expenses. Government will bear the fee for youngsters aiming for a post graduate programme for MA, MSc or higher level.Rs 1.2 billion have been allocated for this scheme and 30 thousand students will benefit from this initiative.
PM SCHEME FOR PROVISION OF LAPTOPS
This is the age of Information Technology, in the current time, it is impossible to acquire quality education and research without information technology. IT is key to access the treasure of knowledge globally available.
The government of Punjab had initiated a laptop scheme for the purpose.The federal government has decided to launch this scheme nationwide.100 thousand students will be provided laptops in accordance with the programme. An amount of 4 billion rupees has been allocated for the PM Laptop scheme.
Ladies and gentlemen,the federal cabinet has already given approval to all these initiatives. All arrangements for the implementation of these programmes have been completed. However, to make the schemes completely transparent and on merit, we would like to receive your suggestions and recommendations, as your input and guidance is important to us and more than welcome. These schemes will be placed on a special websitewww.pmo.gov.pk from Monday the 23rd of September. You can give your feedback on the website or you can send an SMS to 80028.
You can also post your suggestions and proposals to the Prime Minister Office Islamabad. An advertisement stating all these initiatives will also be placed in all major newspapers of the country.The process of receiving public opinions and suggestion will continue for 10 days, after which the schemes would be given a final shape in the light of these proposals. Determined youths of the nation.
For these schemes the government has allocated an amount of Rs 20 billion.I admit,that this amount is not a very large one, but we know that the country is passing through serious financial crises.As I have said earlier, every year we waste 500 billion rupees in to the black hole of institutional losses. A time will come,when the taxpayer’s money would be spent in a more constructive manner. We have decided to allocate more money on your welfare and development, in the coming years.
We want to resolve all issues like energy crisis,loadshedding, health and education. We want to spend taxpayers money on the development of industries and trade, for the creation of jobs for the people of Pakistan.
My dear youngster.
I should mention here, that these schemes would be implemented for all four provinces, Azad Kashmir and Gilgit Baltistan. Get ready to benefit from these programmes,I believe that youngsters can play the main role in steering Pakistan on the path of self reliance. Stand up with the aim to rewrite your destiny. God Willing the sun of a better future of the country will rise from your efforts. Long Live Pakistan.”
Tuesday, October 15, 2013
Interview |
Tuesday, October 15, 2013
Interviews, Khurram Dastgir Khan, Load shedding, local bodies, Nidai MIllat, PMLN government 2013, PTI, War against terrorism
No comments
Monday, October 7, 2013
Education for all
Plan to enroll 3.5 Million children in Punjab
News report of Express dated 29th September,2013
| http://express.com.pk/images/NP_LHE/20130929/Sub_Images/1101974065-1.gif |
Friday, October 4, 2013
Wednesday, October 2, 2013
Interview |
Wednesday, October 02, 2013
Hassan Farooqi, Interviews, MQM, Nidai MIllat, PMLN, Presidential Elections
No comments
Sahibzada Hassan Farooqi | Joint Secretary PMLN Sindh
This interview was published in Nidai Millat dated September 19, 2013


























